افغانستان سے فرار امریکی سلطنت کا خاتمہ ہے الیگزنڈر ڈوگن

اس صورت حال میں صرف یہ اہم نہیں ہے کہ امریکی بھاگ گئے ہیں بلکہ اس بات کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے کہ وہ کس انداز سےبھاگے ہیں- امریکیوں نے اپنا سازوسامان چھوڑنے کے علاوہ اپنے وفادار ساتھیوں (جو کہ پکے ہوئےانگوروں کی طرح طیاروں سے گررہے تھے)کو بھی چھوڑ دیا۔
آج یہ پوری دنیا پر عیاں ہوچکا ہے کہ مغربی تہذیب ایک بیمارانہ تہذیب بن چکی ہے۔ یہ اب اخلاقی، فکری اور حکمت عملی کے اعتبار سے پاگل پن کا روپ دھار چکی ہے۔
امریکہ مزید اب حقیقت کا سامنا کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ وہ اب اپنی خود ساختہ کہانیوں پر یقین کرکے زندگی کیئے چلے جاتا ہے۔ مگر طال-بان کی موجودگی کے سبب حقیقت ان کا منہ چڑاتی ہے اور نرم خوئی سے امریکیوں کو کہتی ہے؛ دفع ہوجاو! اور امریکی قوس قزح کے جھنڈے اور فحش پوسٹر پکڑ کر بھاگتے ہیں، اڑتے ہیں، پف کرتے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں۔
جب یو ایس ایس آر نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلائیں تو دو قطبی (Bipolar )عالمی نظام منہدم ہو گیا۔ اس کے بعد جلد ہی سوویت ریاست کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ یقینا افغانستان اس کی وجہ نہیں تھا۔ لیکن درست طریقے سے جائزہ لینے پر سویت روس کے خاتمے سے ان قطبوں میں سے ایک کی حالت منعکس ہوتی تھی۔ اور وہ یہ کہ ان میں سے ایک شدید طور پر کمزور تھا اور جلد ہی وہ منظر سے غائب ہوگیا۔
آج ایک ملک یعنی امریکہ افغانستان سے سرکے بل بھاگا ہے۔ امریکہ آخری دم تک دعویٰ کرتا رہا کہ یو ایس ایس آر کے خاتمےاور وارسا پیکٹ تنظیم کے بعد یہ واحد عالمی قطب باقی بچا ہے۔ لیکن اب یہ اس قطب کااختتام ہے. ہوسکتا ہے کہ اس سے خود امریکہ کا بطور ملک خاتمہ نہ ہو اگرچہ اس کا بھی امکان ہے لیکن یہ فرار یک قطبی (Unipolar) دنیا,لبرل عالمگیریت اور نیٹو کے فوجی اڈوں کاLGBT اور لبرل نظریات کے ساتھ بیمارانہ اتحاد کا خاتمہ ہے – یہ اب یقینی بات ہے۔ دیکھا جائے تو ان کا پہلے ہی خاتمہ ہو چکا ہے۔
بہت سےلوگ امریکیوں کے کابل سے فرار ہونےکا موازنہ سیگون سے ان کے بھاگنے سےکرتے ہیں۔ لیکن کابل سے امریکہ کا فرار زیادہ سنجیدہ معاملہ ہے۔ ویت نام امریکہ کے لیے ایک خوفناک دھچکا تھا لیکن اس نے دو قطبی دنیا کا خاتمہ نہیں کیا تھا۔ افغانستان سے فرار امریکہ کا خاتمہ ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس بارے میں پیش گوئی کی تھی اور وہ اسی کی توقع کررہے تھے۔ ایک طرح سے امریکہ کا افغانستان سے بھاگنا ناگزیر تھا۔ باوجود اس کے کہ یہ سب کچھ متوقع اور ناگزیر تھا تاہم، اس کے باوجود یہ امریکہ کے لیئے ایک جھٹکا ہے اور ایک حیران کن دلچسپ واقعہ ہے۔
امریکی ہوائی جہاز کے لینڈنگ گیئر سے گرنے والے بدقسمت افغانی، کوئی بھی اس کی پیش گوئی نہیں کرسکتا تھا۔ اب یہ عالمی سطح پر نیٹو، یورپین لبرل ازم، یوکرین اور دیگر امریکی شراکت داروں کی ذلت کی علامت ہے۔
لندن اور برسلز، زیلنسکی اور ساکاشولی، مایا سینڈو، اور ازوف بٹالین، جن پر روس میں پابندی عائد ہے، طیارے کے لینڈنگ گیئر سے گر گئے۔ روس میں پابندی کا شکار قیدی Navalny طیارے کے لینڈنگ گیئر سے گر گیا۔ جارج سوروس کی لاش، جس پر روس میں پابندی عائد ہے، نے افغانستان کی مصیبت زدہ سرزمین پر بلندی کی طرف پرواز کی اورسورج کی حدت سے جھلس گئی۔
اگست 2021 میں یک قطبی دنیا کا خاتمہ ہوگیا۔ یہ تھوڑا پہلے یا تھوڑا بعد میں ہوسکتا تھا۔ لیکن بالآخر ہوا یہ کہ انہوں نے ہم جنس پرست پریڈ کا انعقاد کیا اور بھاگ گئے۔ جو کچھ ہوا اس کی سنگینی مبالغے سے بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ 9/11 نہیں ہے بلکہ یہ اس سے بہت زیادہ سنجیدہ معاملہ ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ ایک انتہائی بنیاد پرست، سخت گیر، لبرل گلوبلسٹ، نظریہ باز فرانسیسی فلسفی اور پچھلے تین صدور کا مشیر برنارڈ ہنری لیوی(جس پر روس میں پابندی عائد ہے) جس کے ساتھ کچھ سال پہلے ایمسٹرڈیم میں “یونی پولر بمقابلہ ملٹی پولر” کے موضوع پر میری شدید بحث ہوئی تھی، اس نے افغانستان کا دورہ کیا اور پنجشیر گھاٹی میں افغان تاجکوں کے سی آئی اے کے حمایت یافتہ رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے سے ملاقات کی۔ لیوی نے اس سے طال-بان کے خلاف جنگ میں مغربی مدد کا وعدہ کیا۔
اس سے پہلے، اس نے اگست 2008 کے موقع پر روس کے ساتھ جنگ ​​میں ساکاشولی سے مغربی امداد کا وعدہ کیا تھا۔ اس نے مغرب سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بغداد، دمشق، تہران اور انقرہ کے خلاف جنگ میں کردوں کی مدد کرے گا۔ اس نے اسد کے خلاف جنگ میں شامی دہشت گردوں کی مدد کرنے کا وعدہ کیاتھا۔ اس نے یوکرائنی نو نازیوں سے کریمیا اور ڈونباس واپس کرنے کا وعدہ کیاتھا۔ اور اس نے جس چیز کا بھی وعدہ کیا تھا اس کا کچھ بھی نتیجہ نہیں نکلا۔ کسی نے کچھ حاصل نہیں کیا، کسی چیز کا دفاع نہیں کیا اور کسی نے کچھ بھی واپس نہیں کیا۔
لیوی اپنی کتاب “ایمپائر اینڈ فائیو کنگز” میں یہ کہتے ہوئے درد سے چیخ اٹھا ہے کہ یک قطبی دنیا ٹوٹ رہی ہے، آپ کیا کر رہے ہیں! روس پر فوری حملہ کریں، چین کو روکیں، ایران اور اردگان کی گردنیں توڑ دیں! پاکستان کو سزا دیں، عرب ممالک کو ان کی اوقات یاد دلائیں!
لبرل سلطنت پانچ بادشاہوں کی ضرب سے ٹوٹ رہی ہے۔ میں نے برنارڈ ہنری لیوی کی غلطی واضح کی لیکن اس نے نوٹس نہیں لیا۔ اس نے ایک بار پھر افغان تاجکوں سے وعدہ کیا ہے۔ بے چارےغریب افغان تاجک!!
طال-بان کی طاقت نہ اچھی ہے اور نہ بری۔ ہماری وزارت خارجہ نے ان کے ساتھ کافی مناسب طریقے سے تعلقات قائم کیے ہیں۔ اور اس نے تعلقات کے لیئے صحیح شرائط عائد کی ہیں۔ آج ایک ہی قانون نافذ ہے: ہر ایک کی اپنی طاقت، اپنی مرضی اور اپنے خیالات۔ لیکن یہ سب اس وقت موثر ہوتا ہے جب ہم اس حقیقت کے بارے میں وہم کا شکار نہ ہوں جس کا ہمیں سامنا ہے۔ اور پروپیگنڈے کا شکار نہ بنیں۔ نہ ہی اپنے اور نہ ہی دشمن یا کسی اور کے پروپیگنڈے کا۔
ہم جنس پرست پریڈ، انسانی حقوق کے بارے میں بک بک، جمہوریت کا استحکام، سول سوسائٹی اور اقلیتوں کا تحفظ اب کارگر نہیں ہیں۔ عالمی سطح پراب ہر کوئی اپنی روایات کا دفاع کر رہا ہے۔ طال-بان اپنی روایات کا اور ہم اپنی۔ اور جن کے پاس روایات نہیں ہیں یا جنہوں نے ان کو ترک کردیا یےوہ برباد ہو گئے۔
مغرب کا انجام قریب آچکا ہے۔ آج ہم مابعد مغرب ایک نئی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ نئی دنیا مسائل، چیلنجز اور خطرات سے بھری ہوئی ہے۔ یہ نئی دنیا میں خود بخود امن یا ہم آہنگی کی ضمانت نہیں دیتی۔ بعد از مغربی کثیر قطبی دنیا کوئی بھی سمت اختیار کر سکتی ہے۔ لیکن یہ پہلے ہی ایک حقیقت ہے۔
اس وقت ہمیں تھوڑی سی کوشش کرنی ہے۔ ہمیں نئی ​​صورت حال میں ایک ایسامقام حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو ہمارےعظیم ملک روس اور اس جیسی منفرد تہذیب کے لائق ہو۔
پس نوشت: الیگزینڈر ڈوگن ایک ممتاز روسی فلسفی اور جیو پولیٹشین ہیں۔ ان کا