Actual politics

ہم ہنگامہ خیز دور میں داخل ہورہے ہیں۔

باقی یورپی ممالک کی نسبتاً روس پر وبائی مرض کا حملہ قدرے کم ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ حکومت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ بہت اچھے تھے (یا ہیں)۔ دوسرے ممالک کی نسبت روس میں صورتحال ڈرامائی نہیں۔ مارچ کے آخرمیں ، روس نے کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کرنا شروع کردیں۔ اس کے بعد پوتن نے نرمی سے شہریوں کو مارچ کے آخر میں ایک ہفتے کے لئے گھر میں رہنے کی تجویز دی بغیر یہ بتائے کہ اس رضاکارانہ اقدام کی اصل حیثیت کیا ہے۔ وبائی مرض کی شدت کا احساس کرتے ہوۓ بعد میں مکمل لاک ڈاؤن کیا گیا۔ ابتدا میں حکومت کے اقدامات قدرے الجھن میں نظر آئے: ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پوتن اور دوسرے زمہ داران، کورونا وائرس کے حقیقی خطرے سے پوری طرح واقف نہیں تھے ، شاید شبہ تھا کہ اس وبا کے پیچھے مغربی ممالک کا کوئی(سیاسی یا معاشی) پوشیدہ ایجنڈا ہے۔ بہر حال ، ہچکچاہٹ سے ، حکومت نے چیلنج قبول کیا اور اب زیادہ تر علاقے مکمل طور پر لاک ڈاؤن میں ہیں۔

 

انٹرنیٹ کی جغرافیائی سیاست: امریکی تسلط کی حاکمیت

لاطینی امریکہ اور خصوصی طور پر میکسیکو کے اندر ٹوئٹر کے پاس نیولبرل سیاسی ایجنڈا کو نافذ کرنے کا لائسنس ہے اور مکسیکو کے حکام اس سے مکمل طور پر بے خبر ہیں، حقیقی طور پر اب یہی لگتا ہے کہ امریکہ جیسے لاطینی امریکہ پر اپنا سائبرنیٹک حق سمجھتا ہے، یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مکسیکو کے سابق صدر رفایل کوریا کا فیس بک اکاؤنٹ بھی بند کردیا گیا تھا. امریکہ کے لاطینی امریکہ کے ساتھ یہ رویہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ  کیا لاطینی امریکہ والے امریکہ کے سائبر نیٹک نیومونروازم کے غلام ہیں؟ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ صنعتی انقلاب (تیسرا اور چوتھا انقلاب جہاں انٹرنیٹ کھڑا ہے) نے طاقتوں کے نظم و نسق کو پریشان کر دیا ہے۔ ایک مخصوص انداز میں صنعتی انقلاب نے انٹرنیٹ کی بے انتہا تیزی کی صوابدید کو بھی بے نقاب کردیا ہے۔   مشہور 'کونڈراٹیو کے گھن چکر ( Kondratiev cycles  )کے مطابق پچاس سال اس کے عروج کے ہیں اور باقی پچاس سال اس کے زوال کے۔ مصنف کے مطابق سائبر کی صنعتی طاقت بھی بالکل جوہری طاقتوں جیسی ہے، کچھ ممالک کے پاس سائبر صنعتی طاقت ہے اور کچھ کے پاس بالکل نہیں۔

بڑے جھوٹ کا دن

اب یہ بھی سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ 9/11 کے بعد امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے 36ہزار لوگ جاں بحق ہوئے جلد میں 6000 فوجی بھی شامل ہیں اور ملک کا تقریباً 68 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور تقریبا پانچ لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے۔ جبکہ امریکی فوجیوں کو پاکستان میں رکھنے پر امریکہ کے دس لاکھ ڈالر سالانہ خرچ ہوئے،اور پاکستان کے ایک فوجی کی سالانہ قیمت 900 ڈالر ہے۔ اور حال ہی میں امریکی ڈرون طیاروں نے افغانستان کے ساتھ منسلک پاکستانی بارڈر پر متعدد مرتبہ پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ان ڈرون حملوں میں دہشتگردوں کی بجائے قبائلی علاقوں میں رہنے والے عام شہری بڑی تعداد بھی جاں بحق ہوئے۔ تاہم امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے زیر کنٹرول ذرائع ابلاغ کے اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی فوج کو فاتح قرار دیا۔  ہمیں شام اور عراق میں داعش کے خلاف امریکہ کی فتح کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کوبھی یاد کرنے کی ضرورت ہے۔ دراصل جھوٹ کی ملمع کاری، امریکہ کی جغرافیائی سیاست کے مخالفین اور اس کے عالمی ایجنڈے کی مخالفت کرنے والوں کو بدنام کرنا امریکی اسٹیبلشمنٹ کے غلام میڈیا کا دن دیھاڑے کا کام ہے۔

قطب شمالی کے وسائل: گرین لینڈ میں امریکی عسکریت پسندی

قطب شمالی کے امور سے متعلق رابطہ کاری کے لئے قائم کی گئی آرکٹک کونسل میں ان دنوں قطب شمالی کے وسائل موضوع گفتگو بن چکے ہیں۔ دنیا کے تین طاقتور ترین ممالک روس چین اور امریکہ نے اقتصادی خوشحالی کے پیش نظر قدرتی وسائل اور تجارتی راستوں کے حصول کے لیے اس پر نظریں جما رکھی ہیں۔ گرین لینڈ جوکہ ڈنمارک کی بادشاہت کا حصہ ہے ان دنوں دوبارہ توجہ حاصل کر چکا ہے کیونکہ امریکہ اس جزیرے میں بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری کرکے خطے میں اپنی برتری کو تقویت دینے کا خواہاں ہے۔